Thursday, June 13, 2024
Homeحدیث شریفجمعہ کی فضیلتیں

جمعہ کی فضیلتیں

از قلم: فہیم جیلانی مصباحی جمعہ کی فضیلتیں

جمعہ کی فضیلتیں

سات دنوں میں سے ایک دن کا نام جمعہ ہے اور اس دن سورج ڈھلنے کے بعد جو نما زادا کی جاتی ہے اسے نمازِ جمعہ کہتے ہیں۔ (تفسیر صراط الجنان )۔

جمعہ فرضِ عین ہے اور ا س کی فرضیت ظہر سے زیادہ مُؤکَّد ہے اور اس کا منکر کافر ہے۔( بہار شریعت، حصہ چہارم، جمعہ کا بیان)۔

جمعہ عربی لفظ ہے۔ اجتماع سے مشتق ہے، جمعہ (جمع ہونے کا دن)۔
دورِ قدیم میں اہلِ عرب سنیچر سے پہلے والے دن (جمعہ) کو ’’یوم العروبہ‘‘ کہا کرتے تھے۔

حضور نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتویں جدِّ اعلیٰ کعب بن لُوَی، عرب میں پہلے شخص ہیں جنھوں نے یہود و نصاریٰ کے ہفتہ اور اتوار کی طرح سنیچر سے پہلا دن ’’یوم العروبہ‘‘ عام معمولات کے علاوہ اجتماعی عبادت کے لیے مقرر کیا تھا۔

وہ اس دن اپنے قبیلہ” قریش“۔ کو جمع کرتے اور حمد و ثناءِ خداوندی اور مواعظ و نصائع پر مشتمل خطبہ دیا کرتے، جس میں صلۂ رحم کی خصوصی ترغیب دیا کرتے تھے اور علی الاغلب صحف ابراہیمیہ اور تورات و انجیل کی مشہور و معروف تعلیمات و بشارات سے حاصل شدہ علم کے مطابق یہ پیش گوئی اور نصیحت کرتے تھے کہ میری اولاد میں ایک نبی ہونے والا ہے۔ اگر تم لوگ اس کا زمانہ پاؤ تو ضرور ان کی اتباع کرنا۔

کعب نے ہی سب سے پہلے یوم العَروبہ میں لوگوں کو عبادت کے لیے اکٹھا کرنے کا طریقہ جاری کیا تھا، تو لوگوں کے مسلسل جمع ہونے کی بنا پر اُس کا پہلا اور پرانا نام بدل کر اس کا نیا اور دوسرا نام ’’یوم الجمعہ‘‘ (لوگوں کو جمعہ کرنے والا دن) بھی انھی نے رکھا۔ جو اسلامی دور میں بھی نقل اور منتخب ہوا۔

سب سے پہلے سن 12 نبوی میں یعنی ہجرت سے ایک سال قبل مدینہ منورہ میں ابتدائی مہاجرین کے سردارحضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ تعالی عنہ نے رسولﷲﷺ کے حکم سے پہلاجمعہ مدینہ منورہ میں ادا کیا تھا۔

اس سے قبل جب مدینہ میں اسلام پھیلنے لگا توانصارِمدینہ نے دیکھا کہ یہودی ہفتہ اور عیسائی اتوار کے دن عبادت کرتے ہیں تو انہوں نے باہمی مشورے سےجمعہ کا دن عبادت کے لیے طے کر لیا اور پہلا جمعہ حضرت اَسعدؓ بن زُرَارَہ نے بنی بیاضہ کے علاقے میں پڑھا جس میں 60 آدمی شریک ہوئے( مسند ِ احمد۔ ابوداؤد۔ ابنِ ماجہ)۔

اور جب حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہجرت کرکے مدینہ طیبہ تشریف لائے تو 12 ربیع الاوّل ،پیر کے دن، چاشت کے وقت قباء کے مقام پر ٹھہرے،پیر سے لے کر جمعرات تک یہاں قیام فرمایا اور مسجد کی بنیاد رکھی ، جمعہ کے دن مدینہ طیبہ جانے کا عزم فرمایا، بنی سالم بن عوف کی وادی کے درمیان جمعہ کا وقت آیا، اس جگہ کو لوگوں نے مسجد بنایا

اور سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے وہاں جمعہ پڑھایا اور خطبہ فرمایا۔یہ پہلا جمعہ ہے جو نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اپنے اَصحاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کے ساتھ پڑھا۔( خازن، الجمعۃ، تحت الآیۃ: ۹، ۴ / ۲۶۶)۔

جمعہ کی فضیلت اور اس کی اہمیت قرآن پاک اور متعدد احادیث مبارکہ میں اللہ رب العزت نے بیان کی اور مزید یہ کہ ایک سورة کا نام بھی سورہٴ جمعہ رکھا اللہ رب العزت نے نمازِجمعہ کے احکام بیان کرتے ہوئے فرمایا
یٰاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلٰوةِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ وَ ذَرُوا الْبَیْعَؕ-ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۹)۔ اے ایمان والو! جب جمعہ کے دن نماز کیلئے اذان دی جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو اور خرید و فروخت چھوڑ دو۔ اگر تم جانو تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے ۔

مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ یہاں بہتری سے مراد لُغوی بہتری ہے یعنی دنیاوی کاروبار سے نمازِ جمعہ اور خطبہ وغیرہ بہتر ہے

اور دوسری آیت فَاِذَا قُضِیَتِ الصَّلٰوةُ فَانْتَشِرُوْا فِی الْاَرْضِ وَ ابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِیْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ (۱۰)۔ ترجمہ : پھر جب نماز پوری ہوجائے تو زمین میں پھیل جاؤ اوراللہ کا فضل تلاش کرو اوراللہ کو بہت یاد کرو اس امید پر کہ تم کامیاب ہوجاؤ۔

اس آیت کے تحت مفسرین کرام بیان فرماتے ہیں کہ یعنی جب نماز پوری ہو جائے تو اب تمہارے لئے جائز ہے کہ معاش کے کاموں میں مشغول ہو جاؤ یا علم حاصل کرنے ،مریض کی عیادت کرنے ،جنازے میں شرکت کرنے ، علماء کی زیارت کرنے اور ان جیسے دیگر کاموں میں مشغول ہو کر نیکیاں حاصل کرو اور نماز کے علاوہ بھی ہر حال میں اللّٰہ تعالیٰ کو یاد کیا کرو تاکہ تمہیں کامیابی نصیب ہو۔

 

جمعہ کا دن بے شمار فضیلتوں کا حامل ہے

جیسا کہ حدیث پاک میں مذکور ہے  وَعَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ مِنْ أَفْضَلِ أَيَّامِكُمْ يَوْمُ الْجُمُعَةِ فِيهِ خُلِقَ آدَمُ وَفِيهِ قُبِضَ وَفِيهِ النَّفْخَةُ فأكثرا عَلَيَّ مِنَ الصَّلَاةِ فِيهِ فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ مَعْرُوضَةٌ عَليّ» رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي الدَّعْوَات الْكَبِير

اوس بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ بے شک جمعہ کا دن تمہارے ایام میں سے افضل دن ہے ۔ اس روز آدم ؑ کی تخلیق ہوئی ، اسی میں ان کی روح قبض کی گئی ، پہلی بار صور پھونکا جانا دوسری بار صور پھونکا جانا ہو گا ، اس روز مجھ پر کثرت سے درود پڑھو ، کیونکہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے ۔‘‘۔

حضرات!! جمعہ کے دن کو اللہ رب العزت نے مسلمانوں کے لیے خاص کیا ۔ دوسری قوموں کو اس مبارک دن سے دور رکھا یوں تو ہر قوم نے اپنی عبادت کے لیے دن متعین کیے جیسے کہ حدیث پاک میں ہے ۔
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَضَلَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْ الْجُمُعَةِ مَنْ كَانَ قَبْلَنَا فَكَانَ لِلْيَهُودِ يَوْمُ السَّبْتِ وَكَانَ لِلنَّصَارَى يَوْمُ الْأَحَدِ فَجَاءَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِنَا فَهَدَانَا لِيَوْمِ الْجُمُعَةِ فَجَعَلَ الْجُمُعَةَ وَالسَّبْتَ وَالْأَحَدَ وَكَذَلِكَ هُمْ لَنَا تَبَعٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَنَحْنُ الْآخِرُونَ مِنْ أَهْلِ الدُّنْيَا وَالْأَوَّلُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمَقْضِيُّ لَهُمْ قَبْلَ الْخَلَائِقِ

ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے ہم سے پہلی امتوں (یہود و نصاریٰ) کو جمعے کا دن اختیار کرنے سے دور رکھا۔ یہودیوں کے لیے ہفتے کا دن مقرر ہوا اور عیسائیوں کے لیے اتوار کا دن۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ہمیں پیدا کیا تو اس نے ہمیں جمعے کا دن اختیار کرنے کی توفیق دی۔ اور عبادت کے لیے جمعہ، ہفتہ اور اتوار مقرر کر دیے (اس لحاظ سے وہ ہم سے پیچھے ہیں) اسی طرح قیامت کے دن بھی وہ (یہود و نصاریٰ) ہم سے پیچھے ہوں گے۔

ہم دنیا میں آنے کے لحاظ سے تو سب سے بعد میں ہیں لیکن قیامت کے دن سب سے آگے اور پہلے ہوں گے۔ تمام لوگوں سے پہلے ہمارے لیے (جنت میں جانے کا) فیصلہ کیا جائے گا۔‘‘۔

اللہ پاک نے ہر مسلمان عاقل بالغ مقیم پر جمعہ کو فرض کیا سرکار فرماتے ہیں رَوَاحُ الْجُمُعَةِ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ جمعہ کے لیے جانا ہر بالغ مسلمان پر فرض ہے۔‘‘ جمعہ کا دن پاکی کا دن ہے بہت سی احادیث میں اس دن غسل کرنے کا بھی حکم ہوا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو آدمی جمعے کے دن غسل کرے اور اپنے جسم وغیرہ کو اچھی طرح دھوئے اور اول وقت جائے، خطبہ شروع سے سنے، پیدل جائے، سوار نہ ہو، امام کے قریب بیٹھے، خاموش رہے اور فضول بات نہ کرے، تو اسے ہر قدم کے عوض ایک سال کے عمل (یام و قیام) کا ثواب ملے گا

۔‘‘حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جس نے اچھی طرح وضو کیا پھر جمعہ کو آیا اور (خطبہ) سنا اور چپ رہا ،اس کے لیے ان گناہوں کی مغفرت ہو جائے گی جو اس جمعہ اور دوسرے جمعہ کے درمیان ہوئے ہیں اور(ان کے علاوہ)مزید تین دن(کے گناہ بخش دئیے جائیں گے ) اور جس نے کنکری چھوئی اس نے لَغْوْ کیا۔ یعنی خطبہ سننے کی حالت میں اتنا کام بھی لَغْوْ میں داخل ہے کہ کنکری پڑی ہو اُسے ہٹا دے۔

اور جمعہ کا دن تمام دنوں کا سردار ہے حدیث شریف میں ہے کہ حضرت ابو لبابہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،رسولِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’جمعہ کا دن تمام دنوں کا سردار ہے اور اللّٰہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے بڑا ہے اور وہ اللّٰہ تعالیٰ کے نزدیک عیدالاضحی اورعید الفطر سے بڑا ہے،

اس میں پانچ خصلتیں ہیں

۔(1) اللّٰہ تعالیٰ نے اسی میں حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو پیدا کیا

۔(2) اسی میں انہیں زمین پر اُتارا

۔(3) اسی میں انہیں وفات دی

۔(4) اور اس میں ایک ساعت ایسی ہے کہ بندہ اس وقت جس چیز کا سوال کرے اللّٰہ تعالیٰ اسے دے گا، جب تک حرام کا سوال نہ کرے

۔(5) اور اسی دن میں قیامت قائم ہوگی۔

جمعہ کے دن مرنے والے کے لیے ایک خاص فضیلت ہے کہ قبر میں حساب و کتاب نہیں ہوتا حضرت جابر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’جو جمعہ کے دن یا جمعہ کی رات میں مرے گا،اسے عذابِ قبر سے بچا لیا جائے گا اور قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ اس پر شہیدوں کی مُہر ہوگی۔( حلیۃ الاولیاء)۔

جمعہ کے دن ایک گھڑی ایسی ہے جس میں اللّٰہ تعالیٰ خاص طور پر دعا قبول فرماتا ہے تاج دارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے جمعہ کے دن کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا’’اس میں ایک ساعت ہے،جو مسلمان بندہ اسے پائے اور وہ کھڑا ہو کر نماز پڑھ رہا ہو تو اللّٰہ تعالیٰ سے جو چیز مانگے گا وہی عطا فرما دی جائے گی ،اور ہاتھ کے اشارے سے بتایا کہ وہ وقت بہت تھوڑا ہے۔( بخاری، کتاب الجمعۃ، باب الساعۃ التی فی یوم الجمعۃ،

اس بارے میں روایتیں بہت ہیں ،ان میں سے دو قوی ہیں : (1) وہ وقت امام کے خطبہ کے لیے بیٹھنے سے نماز ختم تک ہے۔(2) وہ جمعہ کی آخری ساعت ہے۔( بہار شریعت، حصہ چہارم، جمعہ کا بیان،
جہاں جمعہ کی بے شمار فضیلتیں ہیں وہیں اس کے چھوڑنے پر بھی وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔
حضرت اسامہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ،رسولِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’جس نے کسی عذر کے بغیر تین جمعے چھوڑے وہ منافقین میں لکھ دیاگیا۔( معجم الکبیر)۔
اور بھی بہت سی وعیدیں ہیں جن کا مطالعہ آپ کر سکتے ہیں

تحریر: فہیم جیلانی مصباحی

مصوم پور مرادآباد ، یوپی

(مضمون نگار آفیشل ویب سائٹ ” ہماری فکر ” کے ایڈیٹر ہیں)

 

afkareraza
afkarerazahttp://afkareraza.com/
جہاں میں پیغام امام احمد رضا عام کرنا ہے
RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular

Recent Comments

قاری نور محمد رضوی سابو ڈانگی ضلع کشن گنج بہار on تاج الشریعہ ارباب علم و دانش کی نظر میں
محمد صلاح الدین خان مصباحی on احسن الکلام فی اصلاح العوام
حافظ محمد سلیم جمالی on فضائل نماز
محمد اشتیاق القادری on قرآن مجید کے عددی معجزے
ابو ضیا غلام رسول مہر سعدی کٹیہاری on فقہی اختلاف کے حدود و آداب
Md Faizan Reza Khan on صداے دل
SYED IQBAL AHMAD HASNI BARKATI on حضرت امام حسین کا بچپن