خانقاہ رحمانیہ بانکا کا ایک عظیم ستارہ روپوش ہوگیا

خانقاہ رحمانیہ بانکا کا ایک عظیم ستارہ روپوش ہوگیا

آہ!! خانقاہ رحمانیہ بانکا کا ایک عظیم ستارہ روپوش ہوگیا!۔


مکرمی ! آج کل فیس بک، وٹس ایپ یا دیگر سوشل میڈیا میں دستک دیتے ہی دلوں کی دھڑکنیں کچھ دیر کے لیےتیز ہو جاتی ہیں کہ نہ جانے پھر کسی کی کوئی افسوس ناک خبر نظروں کے سامنے آپڑے اور وہی ہوا جس سے کچھ دنوں سے ڈرا ہوا تھا کہ 5/مئ 2021ء بروز بدھ جیسے ہی سحری کے لیےغالبا 3/بجے بیدار ہوا تو ایسی ذات بابر کات کے وصال کی خبر نے پھر ہمیں ایک بار جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور ہماری آنکھیں آنسوؤں سے ڈبڈباتیں رہ گئیں
یقینا ایسی ذات بابرکات کو دیکھنے کے لیے ہماری آنکھیں ساری عمر ترستی رہیں گیں یہ خبر سننے کے بعد یقین نہیں ہو رہا تھا کہ جن کے لیے غالباً مسلسل ہفتہ دس دنوں سے اللہ تعالیٰ عزوجل کی بارگاہ میں صحت یابی کی بھیک مانگتا رہا
نماز پنجگانہ میں شفاے کاملہ و عاجلہ کے لیے دعائیں کرتارہا،دوسروں سے بھی دعاءوں کے لئے درخواستیں کرتا رہا لیکن اللہ ربّ العزت کو کچھ اور ہی منظور تھا کہ
آہ! صدآہ !!! آج وہ مرشد برحق،خوش اخلاق،نیک کردار، سادہ مزاج، صالح طبیعت کے مالک، عجزو انکساری کے پیکر، جن کی زندگی سادگی سے لبریز ہمارے والدین کریمین کے پیر و مرشد گل گلزار قادریت، شہزادہ سیادت، منبع علم و حکمت، پیر طریقت رہبر راہ شریعت، شہزادہ خلیفہ اعلی حضرت ، شیخ المسلمین حضرت علامہ مولانا الشاہ حسنین رضا قادری صاحب قبلہ(سجادہ نشین: خانقاہ رحمانیہ کیری شریف بانکا بہار) ہمیں یتیم کرگئے
اور آج دنیاآپ کی ولولہ انگیز سحربیانی سے ہمیشہ ہمیش کے لیے محروم ہوگئی، اور ہو بھی کیوں نہیں آپ نے عاشق رسول کا سچا وارث اور اعلی حضرت عظیم البرکت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کا سچا سپاہی بن کر اور لاکھوں مسلمانوں کے دلوں میں عشق مصطفی کی ٹمٹماتی چراغ کومزید روشنی عطا کرکے اس دنیا کو اور اپنے لاکھوں عقید ت مندوں کو روتا اور بلکتا ہوا ابدی نیند سو گئے(انا للہ واناالیہ راجعون)
دیکھ تو نیازی ذرا سو گیا کیا دیوانہ
ان کی یاد میں شاید آنکھ لگ گئی ہو گی
ان کی رحلت سے آج ہمارا گھر ،علاقہ، شہر بلکہ پورا ہندوستان خصوصیت کے ساتھ بانکا،بھاگلپور،گڈا،جموئی، صاحب گنج، دیوگھر،جامتاڑا اور دمکا وغیرہ جیسے اضلاع غم میں ڈوبے ہوے ہیں۔
آج جو ان اضلاع کے مریدین و معتقدین اورمتوسلین کی حالت ہو رہی ہے اس کا اندازہ ہم نہیں لگا سکتے وہی لگاسکتے ہیں جنکے قلب و جگر قندیل رحمانی سے جگمگا رہے تھے وصال کے دن سے آج تک ناچیز بھی نڈھال ہے کہ حضرت اتنی جلدی ہم سبھوں کو چھوڑ کر سوے جناں چلے جائیں گے کبھی سوچا نہ تھا۔
آہیں نکل رہی ہیں سسکیاں تھمنے کا نام نہیں لیتیں یکسوئی میں بیٹھ کر انکی خوبیوں کو یاد کرتا جاتا اور قلب و جگر کو بھی کوستا جاتا کہ اب بتا! ہمارے جلسوں کی صدات کون کرے گا ؟
ہماری شادی بیاہ میں شرکت فرماکر شرف قبولیت کا مہرثبت کون کرےگا؟
چھوٹے چھوٹے دینی و فلاحی پروگراموں میں حاضر ہوکر حوصلہ افزائی کون کریگا ؟ مدرسہ خانقاہ رحمانیہ کے طلبا ،مریدین، متوسلین معتقدین کو خانقاہی جام کون نوش کراےگا ؟
عرس رحمانی کا شان دار اسٹیج اب ہمیشہ کے لیے خالی رہ جائےگا، آسیبی اثرات کے شکار اور دیگر معاملات سے رہائی کون دلاے گا ؟

دکھ اور مصیبت زدہ انسانوں کو دلاسہ کون دےگا ؟
یقیناً اگر کوئی ذات تھی تو آپ کی ہی ذات تھی آپ کے اندر عجز و انکسار تو الحمدللہ ایسی کہ آپ کے عقیدت مند آپ کو اپنے پروگرام میں قیام کے لیے جس جگہ کو پیش کرتے خوشی بخوشی قبول فرمالیتے نہ ائیرکنڈیشنڈ کی تمنا نہ سیلنگ فین کی چاہت ہمارے گاؤں گاؤں میں اسفار کی صعوبتوں کو برداشت کرتے ہوے دین اسلام کی تبلیغ اور نشرواشاعت کے لیےہمیشہ کوشاں رہتے
اور نہ ہی نذرانے کا کوئی ڈیمانڈ میلاد، جلسے وجلوس میں جو بھی تحفتاً پیش کیا جاتا آپ بخوشی قبول فرمالیاکرتے اور نہ ہی کھانے پینے میں فرمائش کرتے دسترخوان پہ جو کچھ حاضر ہوتااللہ رب العزت کا شکر بجالاتے ہوئے تناول فرمالیا کرتے۔
نہ جانے ہمارے مرشد کتنی خوبیوں کے مالک تھے۔اور اپنی خوبیوں کو عملی جامہ پہناکر دنیائے سنیت کو منور و مجلی کردیے پھر ہمیشہ ہمیش کے لیے ہم سے یوں رخصت ہوئے کہ
سورج ہوں زندگی کی رمق چھوڑ جاؤں گا
میں ڈوب بھی گیا تو شفق چھوڑ جاؤں گا
اب ہمارے علاقہ میں ایسا مرشد کہاں ملے گا بس ہمیں یہی بول کے قلب و جگر کو دلاسہ دینا پڑا ” كُلُّ نَفۡسٍ ذَائِقَةُ الۡمَوۡت” کے تحت آپ نے آخرت کے رخت سفر باندھ لیا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے دنیائے سنیت ہمیشہ ہمیش کے لئے ” مَوتُ اۡلعَالِمِ مَوۡت الۡعَالَمِ “کے غم میں ڈوب گئی
۔ 6/مئی2021ء بروز جمعرات نو بجے صبح رحمانی کمپس میں لاوکڈاون کے درمیان غالباً 15/ ہزار کی تعداد میں لوگوں نے شریک ہوکرنمازجنازہ ادا کیں اور ہمیشہ کے لیے آپ کوآپ کےوالد گرامی خلیفہ اعلی حضرت علامہ الشاہ سید محمد عبدالرحمن قادری بیتھوی علیہ الرحمہ کے مرقد انور کے قریب سپردخاک کیا۔
اللہ ربّ العزت حضرت علامہ سید حسنین رضا قادری علیہ الرحمہ کے صدقے وطفیل ہمارے اور ہمارے والدین کریمین، احبا واقرباء کے گناہوں کی بخشش و مغفرت فرمائے اور ان کی زندگی کوہمارے لیے نمونہ عمل بناے ۔
خصوصیت کے ساتھ شہزادہ حضور شیخ المسلمین حضرت علامہ مولانا مفتی الشاہ محمد سید شاہد رضا قادری رحمانی مصباحی صاحب قبلہ(ولی عہد: خانقاہ رحمانیہ کیری شریف بانکا بہار) اور ان کے جملہ شہزادگان ،مریدین ،معتقدین اور متوسلین کوبھی صبر و شکیبائی کی توفیق بخشے۔

آمین یارب العالمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم

از قلم۔محمد اشفاق عالم نوری فیضی

رکن۔مجلس علمائے اسلام مغربی بنگال

شمالی کولکاتا نارائن پورزونل کمیٹی،کولکاتا۔

136رابطہ نمبر:9007124164

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top