Thursday, June 13, 2024
Homeشخصیاتحضرت علی کے فضائل اور خصوصیات

حضرت علی کے فضائل اور خصوصیات

تحریر : مولانا محمد دانش رضا منظری  حضرت علی کے فضائل اور خصوصیات

حضرت علی کے فضائل اور خصوصیات

 الله تعالیٰ نے اپنے محبوب پیغمبر محمد صلی الله علیہ وسلم کو ہر چیز عمدہ سے عمدہ عطا کی ہے،اور ہر ناقص و کمتر شئی آپ کی ذات سے منسوب ہو کر بلند تر ہوگئی جیسے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقدس صحابۂ کرام جن کو عرب کے لوگ آپ سے قریب ہو کر برکت حاصل ہونے سے پہلے نہایت حقیر جانتے، ماننےتھے ان کی غربت و افلاسی کی وجہ سے عرب ان کا مذاق بنایا کرتے تھے،اور ان کو اپنے پاس بیٹھا نا،ان سے بات کرنا اپنے لیے عیب و ذلت کا سبب سمجھا کرتے تھے۔

لیکن آپ نے ان کو اپنے سے قریب کرکے اسلام کی حقانیت سے ان کے دلوں کو غلاظت و خباثت سے پاک و صاف کرکے وحدانیت و رسالت کا چراغ ان میں (دلوں)روشن کردیا، جس سے وہ اسقدر منور و روشن ہوئے کہ آفتاب رسالت سے مثل نجوم روشنی لیکر شرک و کفر کی ظلمتوں تاریکیوں کو ختم کرکے پرنور کردیا، اور تمام امت محمدیہ کے لیے ہادئی برحق اور امام و پیشوا کہلائے۔جن کے افعال ، اقوال ہمارے لیے سند و ہدایت کا درجہ رکھتے ہیں اور جن کی زندگیاں ہمارے لیے مشعل راہ اور نمونۂ عمل ہیں۔

کل صحابۂ کرام اللہ کے محبوب بندیں ہیں اور اللہ کے رسول کا ہر مصا ئب و تکالیف میں جانی و مالی ساتھ دینے والے جانثار ساتھی ہیں ۔ 

شریعت میں صحابی وہ انسان ہے جو ہوش و ایمان کی حالت میں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھے یا صحبت میں حاضر رہا اور ایمان پر اس کا خاتمہ ہوگیا۔(مرأةالمناجيح: ج ٨ ،ص ۲۸۱)۔

ہر صحابی کی شان ، منقبت کو بیان کرنا اور ہر صحابی کو خراج عقیدت پیش کرنا نہ صرف ایک کار خیر ہے، بلکہ ایمان کا ایک جزلاینفک بھی ہے کہ قرآن کریم نے ان مقدس انسانوں کے ایمان کو بعد میں آنے والے انسانوں کے لیے معیار اور پیمانہ بنایا ہے۔ جیسا کہ ارشاد خداوندی ہے(مفہوم)۔

 اگر تم ایمان اس طرح لا ؤ جیسا کہ ایمان صحابہ کرام لائے ہیں تو تحقیق تم فلاح پا جاؤ گے،(البقرة:۱۳۷) اس لحاظ سے بھی صحابہ کرام کا ذکر کرنا ضروری ہے، تاکہ امت محمدیہ ان کے مقام اورمرتبہ کو سمجھے۔ اوران کے مطابق ایمان بنانے کی کوشش کرے۔

 آپ کا نام علی ابن ابو طالب ہے۔ اورحیدر بھی ،کرار آپ کا لقب ہے،کنیت ابوالحسن اور ابو تراب ہے۔

حیدر کے معنی ہیں شیر،آپ کی والدہ فاطمہ بنت اسد بن ہاشم ہیں (یہ پہلی خاتون ہیں جنہوں نے اسلام قبول کیا اور ہجرت کی) ،انہوں نے اپنے والد کے نام پر آپ کا نام حیدر رکھا۔

 کرار کے معنی پلٹ پلٹ کر حملہ کرنے والا۔آپ کے والد ابوطالب نے آپ کا نام علی رکھا،حضور صلی الله علیہ و سلم نے آپ کو خطاب اسد الله دیا۔( مرأةالمناجيح: ج ٨، ص۳۴۳)۔

آپ حضور صلی الله علیہ و سلم کے چچا زاد بھائی ہیں ،حضور کے داماد، سیدة النسا حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے شوہر۔ اور حضور کی نسل کی اصل کہ حضور کی اولاد آپ ہی سے چلی،حسنین کریمین کے والد،ولایت کے مرکز،شریعت کے دریا ناپیدا کنار،آپ پنجتن پاک میں بھی داخل ہیں اور چار یار میں بھی،ایک ہاتھ اس جماعت میں رکھتے ہیں دوسرا ہاتھ اس جماعت میں،آپ کے گھر میں حضور کی پرورش ہوئی اور حضور نے آپ کی پرورش کی،غسل ولادت حضور نے حضرت علی رضی اللہُ عنہ کو دیا، اور غسل وفات حضرت علی نے حضور علیہ الصَّلٰوۃُوَالسَّلَام کو دیا، ،حضور علیہ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی امت میں قاسم ولایت آپ ہی ہیں،ہر ولی کو آپ سے فیض ولایت ملتا ہے

حضرت علی رضی اللہ عنہ واقعہ فیل کے ۳۰ سال بعد، ۱۳ رجب کو حضورِاکرم صلَّی اللہُ علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم کے اعلانِ نَبُوَّت فرمانے سے دس سال قبل حضرت فاطمہ بنت اسد کے شکم سے جمعہ کے دن کعبہ شریف کے اندر پیدا ہوئی ۔۔(تاریخ ابن عساکر، ج۴۱، ص۳۶۱)۔

آپ اعلان نبوت سے پہلے ہی سرکار دوعالم کی پرورش میں آئے کہ جب قریش قحط میں مبتلا ہوئے تھےتو حضور علیہ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ابو طالب پر عیال کا بوجھ ہلکا کرنے لئے حضرت علی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم کو لے لیا تھا۔

اس طرح حضور کے سائے میں آپ نے پرورش پائی، اور آپ کی ہی گود میں ہوش سنبھالا، آنکھ کھولتے ہی حضور کا جمال جہاں آرا دیکھا، انھیں کی باتیں سنیں،انھیں کی عادتیں سیکھیں۔اس لیے بتوں کی نجاست سے آپ کا دامن کبھی آلودہ نہ ہوا، یعنی آپ نے کبھی بت پرستی نہ کی، اسی وجہ سے آپ کا لقب کرم اللہ وجہہ الکریم ہوا۔(فتاویٰ رضویہ، ج۲۸، ص۴۳۶ بتغیر)۔

حضرت علی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم نوعمر(بچوں میں) لوگوں میں سب سے پہلے اسلام سے مشرف ہوئے۔ تاریخ الخلفا میں ہے، کہ جب آپ ایمان لائے، اس وقت آپ کی عمر مبارک دس سال تھی، بلکہ بعض لوگوں کے قول کے مطابق نو سال اعلی حضرت امام احمد رضا علیہ الرحمہ ( تنزیہ المکانةالحیدریہ) میں تحریر فرماتے ہیں، بوقت اسلام آپ کی عمر آٹھ دس سال تھی۔

آپ کے اسلام قبول کرنے کی تفصیل محمد بن اسحاق نے اس طرح بیان کی ہے۔کہ حضرت علی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم نے حضور صَلی اللہ تعالی علیہ وسلم،اور حضرت خدیجةالكبری رضی اللہ عنہا کو رات میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ۔جب یہ لوگ نماز سے فارغ ہوئے، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضور صَلی اللہ علیہ وسلم سےعرض کیا، آپ یہ کیا کررہےتھے،حضور نے فرمایا، یہ اللہ کا ایسا دین ہے جس کو اس نے اپنے لیے منتخب کیا ہے۔ اور اسی کی تبلیغ و اشاعت کے لیے اپنے رسول کو بھیجا ہے۔

 لہذا میں تم کو بھی ایسے معبود کی طرف بلاتا ہوں، جو اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔اور میں تم کو اس کی عبادت کا حکم دیتا ہوں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ جب تک میں اپنے نے باپ ابو طالب سے نہ پوچھ لوں، اس کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کرسکتا۔

چونکہ اس وقت حضور صَلی اللہ علیہ وسلم کو راز فاش ہونا منظور نہ تھا، اسی لئے آپ نےفرمایا، اے علی اگر تم اسلام نہیں لاتےہو، تو ابھی اس معاملہ کو پوشیدہ رکھو، کسی پر ظاہر نہ کرنا۔حضرت علی رضی اللہ عنہ اگرچہ اس وقت رات میں ایمان نہیں لائے۔مگر اللہ نے آپ کے دل میں ایمان کو راسخ کردیا تھا،دوسرے روز صبح ہوتے ہی حضور صَلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ،اور آپ کی پیش کی ہوئی ساری باتوں کو قبول کرلیا اور اسلام لے آئے

حضرت علی رضیَ اللہُ عنہ اور حضرت سیّدَہ بی بی فاطمہ رضیَ اللہُ عنہَا کا بابرکت نکاح ۲ ہجری ماہِ صفر، رجب یا رمضان میں ہوا۔ (اتحاف السائل للمناوی، ص:۲ )۔

 ایک مرتبہ حسنینِ کریمَین رضیَ اللہُ عنہُما بیمار ہوئے، حضرت علی مرتضٰی کَرَّمَ اللہُ وَجہَہُ الْکریم اور حضرت فاطمہ رضیَ اللہُ عنہَا نے بچّوں کی صحت یابی کے لئے تین روزوں کی مَنّت مان لی، اللہ تعالیٰ نے صحت دی، منّت پوری کرنے کا وقت آیا تو روزے رکھ لئے گئے۔

 حضرت علی کَرَّمَ اللہُ وَجہَہُ الْکریم ایک یہودی سےکچھ کلو جَو لائے، حضرت خاتونِ جنّت نے تینوں دن پکایا لیکن جب افطار کا وقت آیا اور روٹیاں سامنے رکھیں تو ایک روز مسکین، ایک روز یتیم، ایک روز قیدی آگیا اور تینوں روز یہ سب روٹیاں ان لوگوں کو دے دی گئیں اورگھر والوں نے صرف پانی سے افطار کرکے اگلا روزہ رکھ لیا۔ (خزائن العرفان، پ۲۹، الدھر،تحت الآیۃ:۸ ص:۱۰۷۳ ملخصاً ، تبیان القرآن:ج۱۲، ص ۴۳۸)۔

حضرت ابرہیم بن سعد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: کہ کیا تم اس پر خوش نہیں ہو کہ تم میرے لیے ایسے ہو جیسے موسیٰ علیہ السلام کے لیے ہارون علیہ السلام تھے۔ (صحیح البخاری:۳۷۰۶)۔

مذکورہ حدیث کی وضاحت یہ ہے کہ جب حضور غزوہ تبوک میں جانے لگے ،تو حضرت علی کو اہل مدینہ کی حفاظت پر اور حضرت عبدالله ابن مکتوم کو نماز کی جماعت کرانے پر مقرر فرمایا،حضرت علی نے جہاد میں ساتھ جانے کی خواہش کی تو یہ فرمایا کہ جیسے موسیٰ علیہ السلام جب طور پر مناجات کے لیے گئے تو حضرت ہارون علیہ السلام کو اپنا نائب خلیفہ بنی اسرائیل میں چھوڑ گئے ایسے ہی میں تم کو اپنا نائب خلیفہ بنا کر مدینہ میں چھوڑ تا ہوں اور خود جاتا ہوں۔

 اور اے علی تم میں اور جناب ہارون علیہ السلام میں فرق یہ ہے کہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خلیفہ بھی تھے، اور نبی بھی تم میرے خلیفہ تو ہو مگر نبی نہیں کیونکہ مجھ پر نبوت ختم ہوچکی اب نہ تو میرے زمانہ میں کوئی نبی ہے نہ میرے بعد ہوگا۔

حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے محبت کرنا ایمان کی علامت اور بغض رکھنا نفاق کی علامت قرار دیا ہے، جس کا ذکر حدیث میں مذکور ہے۔حضرت زر بن حبیش بیان کرتے ہیں ، حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس نے دانے کو اگایا اور ہر ذی روح کو پیدا فرمایا : نبی امی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے عہد دیا کہ مومن شخص ہی مجھ سے محبت کرے گا اور صرف منافق شخص ہی مجھ سے دشمنی رکھے گا۔(مشکوة:۶۰۸۸)۔

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت علی رضیَ اللہُ عنہ سے کس قدر محبت فرمایا کرتے تھے، حضرت علی رضیَ اللہُ عنہ جس کے مدد گار ہوں اسکے مددگار آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہوں۔اتنا ہی نہیں بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرمایا کرتے تھے علی رضیَ اللہُ عنہ مجھ سے ہیں اور میں علی رضیَ اللہُ عنہ سے اور حضرت علی رضیَ اللہُ عنہ ہر مومن کے مولی ہیں جس کا تذکرہ کئ احادیث میں آتا چند بیان کی جاتی ہیں ۔

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ یمن کے غزوہ میں شرکت کی جس میں مجھے آپ سے کچھ شکوہ ہوا۔ جب میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں واپس آیا تو میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ذکر کرتے ہوئے ان کے بارے میں تنقیص کی۔ میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ مبارک متغیر ہو گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :اے بریدہ! کیا میں مومنین کی جانوں سے قریب تر نہیں ہوں؟‘۔

 تو میں نے عرض کیا : کیوں نہیں، یا رسول اﷲ! اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :جس کا میں مولا ہوں اُس کا علی مولا ہے۔‘‘ اس حدیث کو امام احمدنے اپنی مسند میں، امام نسائی نے ’’السنن الکبریٰ‘‘ میں اور امام حاکم اور ابن ابی شيبہ نے روایت کیا ہے اور امام حاکم کہتے ہیں کہ یہ حدیث امام مسلم کی شرائط پر صحیح ہے۔

حضرت عمران بن حصین رضیَ اللہُ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :علی رضیَ اللہُ عنہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں اور وہ ہر مومن کے دوست ہیں(مشکوة:۶۰۹۰)۔

پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم حضرت علی رضی اللہُ عنہ سے کتنا پیار کرتے آپ اسکا اندازہ اس سے لگا سکتے ہیں کہ حضرت ابو بکر ،عمر رضیَ اللہُ عنھما نے سرکار سے عرض کیا،آپ حضرت فاطمہ رضیَ اللہُ عنہَا کا نکاح مجھ سے کردیں لیکن سرکار نے انکار کردیا،اور جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہ رضیَ اللہُ عنہَا سے نکاح کرنے کے لیے عرض کی تو سرکار نے یہ کہتے ہوئے ہاں کردیا کہ اللہ تعالی نے مجھے اپنی بیٹی بی بی فاطمہ رضیَ اللہُ عنہَا کا نکاح حضرت علی رضی اللہُ عنہ کے ساتھ کردینے کی وحی کی ہے(مرأةالمناجيح: ج۸،ص,۳ ۵۴)اور اسکا ذکر حدیث میں بھی مذکور ہے۔

حضرت سیدنا علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا علمی مقام و مرتبہ، اُن کی قرآن فہمی، حقیقت شناسی اور فقہی صلاحیت تمام اولین و آخرین میں ممتاز و منفرد تھی۔ قدرت نے انہیں عقل و خرد کی اس قدر ارفع و اعلیٰ صلاحیتوں سے نوازا تھا کہ جو مسائل دوسرے حضرات کے نزدیک پیچیدہ اور لاینحل سمجھے جاتے تھے، انہی مسائل کو وہ آسانی سے حل کردیتے تھے۔ اکابر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ایسے اوقات سے پناہ مانگتے تھے کہ جب کوئی مشکل مسئلہ پیش آجائے اور اس کے حل کے لیے حضرت علی رضی اللہ عنہ موجود نہ ہوں۔حضرت سعید بن المسیب علیہ السلام بیان کرتے ہیں:حضرت عمر رضی اللہ عنہ اُس پیچیدہ مسئلہ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے تھے جسے حل کرنے کے لیے ابوالحسن علی ابن ابی طالب نہ ہوں۔(فضائل الصحابة، ج ٢رقم:)۔

اُن کا بتایا ہوا مسئلہ اولوالعزم صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے نزدیک حرفِ آخر سمجھا جاتا تھا۔ سیدالمفسرین حبر الامۃ حضرت عبداللہ بن عباس سے حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سےروایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا:جب ہمیں کسی چیز کا جواب حضرت علی رضیَ اللہُ عنہ سے مل جائے تو پھر ہم کسی اور کی طرف رجوع نہیں کرتے۔

حضرت علی خود فرماتے ہیں۔ نبی کریم نے فرمایا میں علم کا شہر ہے اور علی رضیَ اللہُ عنہ اسکے دروازہ۔

شرابی کی سزا حضرت سیّدنا عمرفاروق رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ نے شراب کی سزا کے متعلق صحابۂ کرام علیہِمُ الرِّضْوَان سے مشورہ کیا تو حضرتِ سیّدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تعالٰی وَجہَہُ الْکریم نے رائے دی کہ اسے ۸۰ کوڑے مارے جائیں کیونکہ جب پئے گا نشہ ہوگا اور جب نشہ ہوگاتو بیہودہ بکے گا اور جب بیہودہ بکے گا تو تُہمت لگائے گا، لہٰذا حضرت سیّدناعمر فاروق اعظمرضیَ اللہُ تعالٰی عنہ نے اس شخص کو ۸۰ کوڑے لگانے کا حکم دیا۔(موطأ امام مالک،ج۲ص۳۵۱،)۔

جب حضرت علی رضی اللہ عنہ جنگ صفین میں مشغول تھے،آپ کے ساتھیوں کو پانی کی سخت ضرورت پڑی۔ لوگوں نے بہت دوڑ دھوپ کی مگر پانی دستیاب نہ ہوا۔آپ نے فرمایا اورآگے چلو،کچھ دور چلے تو ایک گرجا نظر آیا،آپ نے اس گرجا میں رہنے والے سے پانی کے متعلق پوچھا،اس نے کہا یہاں سے چھ میل کے فاصلے پر پانی موجود ہے۔ آپ کے ساتھیوں نے کہا اے امیرالمومنین آپ ہمیں اجازت دیجئے شاید ہم اپنی قوت ختم ہونے سے پہلے پانی تک پہنچ جائیں۔

آپ نے فرمایا اس کی حاجت نہیں،پھر اپنی سواری کو پچھم کی طرف موڑا ،اور ایک طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا یہاں زمین کھودو،ابھی تھوڑی ہی زمین کھودی گئی تھی، نیچے ایک بڑا پتھر ظاہر ہوا،جسے ہٹانے کے لیے کوئی ہتھیار بھی کار گر نہ ہوسکا،حضرت علی رضیَ اللہُ عنہ نے فرمایا یہ پتھر پانی پر واقع ہے اسے کسی طرح ہٹاؤ، آپ کے ساتھیوں نے بڑی کوشش کی مگر اسے اپنے جگہ سے ہلا نہ سکے، اب شیر خدا نے اپنی آستین چڑھا کر انگلیاں اس پتھر کے نیچے رکھ کر زور لگایا تو وہ پتھر ہٹ گیا،اور اس کے نیچے نہایت ٹھنڈا،میٹھا اور صاف پانی ظاہر ہوا۔

جو اتنا اچھا تھا کہ پورے سفر میں انہوں نے ایسا پانی نہ پیا تھا، سب نے شکم سیر ہو کر پیا اور جتنا چاہا بھرلیا، پھر آپ نے وہ پتھر اس چشمہ پر رکھ دیا ،اور فرمایا اس پرمٹی ڈال دو، جب راہب نے یہ دیکھا تو آپ کی خدمت میں کھڑے ہو کر نہایت ادب سے پوچھا، کیا آپ پیغمبر ہیں؟  فرمایا نہیں، پوچھا کیا آپ فرشتہ مقرب ہیں؟ فرمایا نہیں،پوچھا تو پھر آپ کون ہیں؟ فرمایا میں محمد رسول اللہ صلی علیہ وسلم کا داماد اور ان کا خلیفہ ہوں۔راہب نے کہا ہاتھ بڑھائیے تاکہ میں آپ کے ہاتھ پر اسلام قبول کروں،اپ نے ہاتھ بڑھایا تو راہب نے پڑھا اشھد ان لا الہ الا اللہُ و اشھد ان محمدا رسول اللہ

حضرت علی رضیَ اللہُ عنہ نے ۱۷/رمضان ۴۰ہ کو علی الصبح بیدار ہوکر اپنے بڑے بیٹے حضرت امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ سے فرمایا آج رات خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی تو میں نے عرض کیا یارسول اللہ آپ کی امت نے میرے ساتھ کجروی اختیار کی ہے، اور سخت نزاع برپا کردیا ہے ۔

حضور نے فرمایا: تم ظالموں کے لیے دعا کرو،تو میں نے اس طرح دعا کی یا الہ العالمین تو مجھے ان لوگوں سے بہتر لوگوں میں پہنچا دے،اور میری جگہ ان لوگوں پر ایسا شخص مسلط کر جو برا ہو۔ابھی آپ یہ بیان ہی فرما رہے تھے کہ ابن نباح مؤزن نے آذان دی الصلاة الصلاة،حضرت علی نماز پڑھانے کے لیے گھرسے چلے۔ راستے میں لوگوں کو نماز لیے آواز دے کر جگاتے جاتے تھے۔

اتنے میں عبد الرحمان بن ملجم آپ کے سامنے آگیا،اور اس نے اچانک آپ پر تلوار کا بھر پور وار کیا، وار اتنا سخت تھا کہ آپ کی پیشانی کنپٹی تک کٹ گئی،اور تلوار دماغ پر جاکر ٹہری۔شمشیر لگتے ہی آپ نے فرمایا فزت رب الكعبة۔ یعنی رب کعبہ کی قسم میں کامیاب ہوگیا،آپ کے زخمی ہوتے ہی چاروں طرف سے لوگ ڈوڑ پڑے اور قاتل کو پکڑ لیا۔

حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سخت زخمی ہونے کے باوجود جمعہ، سنیچر تک بقید حیات رہے، لیکن اتوار کی رات میں آپ کی روح بارگاہ قدس میں پرواز کر گئی۔ چار برس آٹھ ماہ نو دن آپ نے امور خلافت کوانجام دیا اور ترسٹھ سال کی عمر میں آپ کا وصال ہوا۔

حضرت حسن،حضرت حسین،اور حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ تعالی عنہم نے آپ کو غسل دیا۔ آپ کی نماز جنازہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے پڑھائی آپ کی تکفین، دفین کے بعد آپ کے قاتل عبد الرحمان بن ملجم کو امام حسن رضی اللہ عنہ نے قتل کردیا،پھر اس کے ہاتھ پیر کاٹ کر ایک ٹوکرے میں ڈال دیا، اور اس میں آگ لگا دی جس سے اس کی لاش جل کر راکھ ہوگئی

حضرت بی بی فاطمہ رضیَ اللہُ عنہَا کی زندگی میں حضرت علی کَرَّمَ اللہُ وَجہَہُ الْکریم کو دوسرے نکاح کی اجازت نہ تھی، لیکن ان کے وصال کے بعدحضرت علی کَرَّمَ اللہُ وَجہَہُ الْکریم نے مختلف وقتوں میں آٹھ عورتوں سے نکاح کیا ۔ اس طرح آپ کی کل نو بیویاں ہوئیں جن سے پندہ صاحبزادگان اور سترہ صاحبزادیاں پیدا ہوئیں۔

پر خلوص درخواست ۔۔۔ اے میرے پیارے پیارے اسلامی بھائیوں اور بہنوں:۔

آپ لوگ باخوبی جانتےہیں، کرونا وائرس مثل عذاب ہمارے اوپر مسلط ہے،اورلوگوں کی ہلاکت کا سبب بن رہی ہے، کورنا وائرس سے کہیں زیادہ اموات بھکمری کی وجہ سے ہو رہی ہیں، یہ سچ ہے میڈیا بھلے نہ دکھائے، یا نہ بتائے، لیکن اس کا انکار نہیں کیاجاسکتا اس کا اے دن آپ اور ہم مشاھدہ بھی کررہے ہیں۔

اگر ہم باثروت ، مالدار ہیں۔ تو مفلس، نادار ، غریب، بیوہ، یتیم ،حضرات کی مدد کریں، انکے کھا پینے کا خلوص نیت کے ساتھ انتظام کریں اور اسکے ذریعہ سے اپنی دنیا، آخرت کو باخیر بنائیں۔ یہی موقعہ ہیں امراء ،اغنیاء کے لیے اپنے رب کے بارگاہ میں مقرب ،محبوب ہونے کا۔اللہ تعالی ہم لوگوں کو غریبوں کی مدد کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔۔ آمین بجاہ النبی الکریم صَلی اللہُ علیہِ وسلم

اعلیٰ حضرت بحیثیت سائنسدان اس ٘مضمون کو   پڑھ کر  ضرور شئیر کریں

 

 تحریر؛  مولانا محمد دانش رضا منظری

استاذ: جامعہ احسن البرکات فتح پور، یوپی

 رابطہ     9410610814

Amazon   Flipkart   Havelles   Bigbasket

 

 

 

afkareraza
afkarerazahttp://afkareraza.com/
جہاں میں پیغام امام احمد رضا عام کرنا ہے
RELATED ARTICLES

1 COMMENT

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular

Recent Comments

قاری نور محمد رضوی سابو ڈانگی ضلع کشن گنج بہار on تاج الشریعہ ارباب علم و دانش کی نظر میں
محمد صلاح الدین خان مصباحی on احسن الکلام فی اصلاح العوام
حافظ محمد سلیم جمالی on فضائل نماز
محمد اشتیاق القادری on قرآن مجید کے عددی معجزے
ابو ضیا غلام رسول مہر سعدی کٹیہاری on فقہی اختلاف کے حدود و آداب
Md Faizan Reza Khan on صداے دل
SYED IQBAL AHMAD HASNI BARKATI on حضرت امام حسین کا بچپن