عظمت مصطفیٰ

رسول اللہ ﷺ کا اپنے گھر والوں سے تعلق

ازقلم: ابوحمزہ حمد عمران مدنی رسول اللہ ﷺ کا  اپنے گھر والوں سے تعلق

رسول اللہ ﷺ کا  اپنے گھر والوں سے تعلق

پیارے دوستوں ! رسول اللہ ﷺ کی حیات طیبہ مسلمانوں کے لیے عظیم مینارۂ ہدایت ہے ۔ رسول اللہ ﷺ کی پیروی کرنا دنیا و آخرت میں کام یابی کا ذریعہ ہے ۔

اللہ پا ک کی  رضا  وخوشنودی کا سبب ہے ۔آج ہم مسلمان  رسول اللہ ﷺ کی عملی زندگی سے بہت دور ہوچکے

ہیں ۔  صحابۂ کرام نے حضورﷺ کے عادات و طوار کو اپنے سینوں میں محفوظ رکھا ، تابعین تک پہنچایا۔ پھرتابعین نے اس عظیم امانت کو تبع تابعین تک پہنچایا۔

پھر باقاعدہ  کتابوں میں ان تمام  چیزوں کو محفوظ کردیا گیا اور الحمدللہ ! یہ عظیم نعمت ہم لوگوں تک پہنچی۔ لیکن جوں جوں زمانۂ رسالت مآب سے دوری بڑھتی جارہی ہے ہم مسلمانوں کی بے عملی بھی بڑھتی چلی  جا رہی ہے ۔ اسلام جس نے انسانیت کو  رشتوں کا تقدس  و اہمیت سکھایا ۔

جس نے اپنے ماننے والوں کو اس بات  کی تعلیم دی کہ  رشتے  خواہ نسبی ہوں یا صھری  کس طرح نبھائے جاتے ہیں ۔ اسلام جس کی تعلیمات میں سے یہ بھی  ہے : جو ہمارے بڑوں کی تعظیم نہ کرے ہمارے چھوٹوں پر شفقت نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں ۔

اسلام جس کی تعلیمات میں سے یہ بھی  ہے : تم میں سے بہترین وہ ہے جو اپنی خاندان والوں کی مدد کرنے والا ان سے ظلم کو دور کرنے والا ہے جب تک کہ وہ گناہ نہ کرے ۔ آج  اسی اسلام کے ماننے والے افراد کی اکثریت اپنے خانگی معاملات کی وجہ سے پریشان ہیں ۔

گھر گھر جھگڑے ہیں، بے سکونی ہے ،تو تُکار ہے ۔ العیاذ باللہ ! اس کی بنیادی وجہ رسول اللہ ﷺ کی اس حوالے سے جو واضح تعلیمات ہیں انہیں یکسر فراموش کردینا ہے ۔ اس مضمون میں ہم رسول اللہ ﷺ کے بعض ان معمولات کو ذکر کرتے ہیں جن کا ہمارے عنوان سے گہرا تعلق ہے ۔ ہم اللہ پاک سے دعا کرتے ہیں حضور ﷺ کے عظیم کردار و اخلاق کی ضیاء پاشیوں سے اللہ پاک ہمیں بھی روشن و منوَّر فرمائے ۔

حضور ﷺ کی اپنی ازواج اور اولاد سے محبت

اپنی ازواج اور اولاد سے  محبت کرنا رسول اللہ ﷺ کی عظیم سنت ہے، گھر میں کاموں میں اہل خانہ کی مدد کرنا رسول اللہ ﷺ کی عظیم عادت مبارکہ  تھی حضور ﷺ گھر میں کا موں میں بھی بنفس نفیس شرکت فرمایا کرتے تھے ۔اپنے بہت سے کام حضور ﷺ اپنی ازواج مطھرات و خدّام سے کرانے کے بجائے از خود کر لیا کرتے تھے۔

چناں چہ کتبِ سیر میں یہ بات لکھی ہے کہ حضور ﷺ اپنی مبارک نعل شریف کو خود گانٹھ لیا کرتے تھے۔ بکری کا دودھ دوھ لیا کرتے تھے  وغیرہ ۔

محترم قارئین کرام ! آدمی کے حقیقی اخلاق کا اندازہ اس کی خانگی زندگی میں اختیار کردہ روش سے ہوتا ہے بہت سے لوگ معاشرے میں ایسے نظر آتے ہیں جو غیروں کے سامنے تو حسن اخلاق اور عاجزی کا پیکر دکھائی دیتے ہیں

لیکن گھر میں داخل ہوتے ہی وہ بپھرے وہ شیر کی مثل ہوجاتے ہیں ایسے شخص کے  گھر  میں داخل ہوتے ہی گھر کے افراد اس سے چھپنے کی کوشش کرتے ہیں کہ کہیں جناب کی غیظ و غضب کی بجلیاں ہم پر نہ گر جائیں۔بالخصوص اگر آدمی شادی شدہ ہو اور کام وغیرہ کی تھکن سے چور ہو، یا دن میں  کوئی بھی ناخوش گوار معاملہ اس کے ساتھ رونما ہوا ہو، سارا نزلہ  بالآخر بیوی پر گرتا ہے ۔

آدمی  کا شفاف کردار ، بہترین اخلاق  کس طرح معلوم ہوتا ہے  اس کا ایک ذریعہ اس  حدیث پاک  میں مذکور ہے : حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں : حضورِ اکرمﷺ نے فرمایا:تم میں اچھے وہ لوگ ہیں جو عورتوں سے اچھی طرح پیش آئیں اورمیں تم سب سے زیادہ اپنی بیوی سے اچھا سلوک کرنے والا ہوں ۔(سنن الترمذی ، برقم :۳۸۹۵ ،۵/۷۰۹)

اس حدیث پاک میں نبی پاک ﷺ نے آدمی کے حسنِ اخلاق کے حامل ہونے کا گویا ایک میزان بتا دیا ہے اگر کسی شخص کے اخلاق و عادات کو جاننا ہے تو اس حوالے سے دیکھ لیا جاے کہ اس کا اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ کیا رویّہ ہے

اگر وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ اچھا سلوک کرنے والا ہے ، اسے بے جا اذیت اور تکلیف دینے والا نہیں ہے ، دینی معاملات میں اس کی معاونت کرنے والا ہے تو یقینی طور پر وہ ایک اچھا با اخلاق ، باکردار مسلمان ہے ۔

مسلمان شوہر کی خاصیت 

حضرت ابوہریرہ  رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے: رسول اﷲﷺ نے فرمایا : مسلمان مرد ، مسلمان عورت کو مبغوض نہیں رکھ سکتا اگر اس عورت کی ایک عادت بُری معلوم ہوگی تو دوسری پسند ہوگی۔  (صحیح مسلم ، برقم :۶۱ (۱۴۶۹)، ۲/۱۰۹۱)

وضاحت :اس حدیث میں مسلمان شوہر کوتعلیم ہے کہ اسے  اپنی بیوی کی تمام عادتیں خراب نہیں لگیں گی اگر کچھ بری عادات عورت میں ہوں گی تو بہت سی اچھی عادات میں اس میں ہوں گی  پس  جب عورت میں اچھی بُری ہر قسم کی باتیں ہو ں تو پھر مرد کو یہ نہ چاہیے کہ خراب عادات ہی کو دیکھتا رہے بلکہ بُری عادت سے چشم پوشی کرے اور اچھی عادت کی طرف نظر کرے۔

لیکن آج   مسلمان شوہر کا بالعموم مزاج ہی کچھ اور بن گیا ہے ۔ نہایت سلیقہ مند،خوبصورت ،نیک ،وفاشعار عورت نکاح میں ہوکوئی  مستقل بری عادت تو بہت دور کی بات ہے اگر اتفاقاً کبھی  نمک مرچی میں کمی بیشی ہو جائے تو یہی ایک معمولی غلطی  اس کی تمام اچھائیوں پر غالب آجاتی ہے ۔

شوہر بیوی پر تشدد نہ کرے

رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات یہ ہیں کہ زوجین  کے تعلقات اس قسم کے ہیں کہ ہر ایک کو دوسرے کی حاجت پڑتی ہے اورمیاں بیوی کے باہم ایسے مراسم ہیں کہ دونوں میں سے ہر ایک کو دوسرے کی ضرورت رہتی ہے ۔

ان میں کسی ایک  کا دوسرے کو چھوڑنا بہت دشوار ہوتا ہے جو مسلمان ان باتوں کا خیال رکھے گا وہ کبھی بھی  اپنی بیوی کو مارنے کا ہرگز قصد نہیں کرے گا۔حضرت عبداﷲبن زمعہ رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے مروی ہے :رسول اللہﷺ نے فرمایا : کوئی شخص اپنی عورت کو نہ مارے جیسے غلام کو مارتا ہے پھر دوسرے وقت اس سے مجامعت کریگا۔ (صحیح البخاری ،برقم :۵۲۰۴ ، ۷/۳۲)

حضور ﷺ کا اپنی زوجۂ محترمہ کے ساتھ سلوک 

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے :فرماتی ہیں : میں بحالت حیض پیتی پھر حضورﷺ کو وہی برتن دے دیتی تو آپ اپنا منہ شریف میرے منہ والی جگہ پر رکھ کر پیتے اور میں بحالتِ حیض ہڈی چوستی پھر آپ کو دے دیتی تو آپ اپنا منہ شریف میرے منہ کی جگہ رکھتے ۔(صحیح مسلم ، برقم : ۱۴ ۔ (۳۰۰) ، ۱/۲۴۵)

وضاحت :  اس حدیث سے چند مسائل معلوم ہوتے ہیں:ایک یہ کہ اپنی بیوی کا جھوٹھا کھانا پینا جائز بلکہ سنت سے ثابت ہے۔ فقہا جومرد کوعورت کا جھوٹھا کھانا منع کرتے ہیں وہاں اجنبی عورت مراد ہے ۔

دوسر ا یہ کہ حضورﷺ کی زندگی نہایت سادہ اور بے تکلف تھی امت کو بھی سادگی اختیار کرنی چاہیے۔ حضورﷺ کا یہ ہڈی چوسنا،گوشت چوسنا،گوشت چھوڑانے کے لئے نہ ہوتا تھا وہ تو پہلے چھوٹ چکا ہوتا تھا بلکہ محبوبیت ظاہر فرمانے کے لئے ہوتا تھا ۔

گھر والوں سے اپنے پیار و محبت کا اظہار کرنا

ایک فطری تقاضہ ہے کہ انسان  اپنے گھر والوں سے محبت کرتا ہے ، ان کا خیال رکھتا ہے ، ان کو کوئی تکلیف نہ پہنچے اس بات کا لحاظ کرتا ہے اگر گھر کا کوئی بھی فرد پریشانی یا مصیبت میں ہوتا ہے تو اس پریشانی ، مصیبت کو دور کرنے کے لیے تگ ودو کرتا ہے 

لیکن بہت سے افراد ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنے گھر کے افراد سے محبت تو کرتے ہیں لیکن اس محبت کے اظہار کو ضروری نہیں سمجھتے اس حوالے سے ہم حضور ﷺ کے بعض فرامین اور آپ ﷺ کے عملِ مبارک کو بیان کرتے ہیں : 

گھر والوں کا ہر مشکل میں ساتھ دینا 

حضرت سیدنا سراقہ بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں : نبی پاک ﷺ نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا : تم میں سے بہترین وہ ہے جو اپنی خاندان والوں کی مدد کرنے والا ان سے ظلم کو دور کرنے والا ہے جب تک کہ وہ گناہ نہ کرے ۔ (سنن ابی داود ، برقم :۵۱۲۰ ، ۱۴/۱۸ )

حضور ﷺ کا اپنے اہلِ خانہ سے محبت کا اظہار فرمانا 

حضور ﷺ اپنے اہلِ خانہ سے کس طرح سے محبت کا اظہار فرمایا کرتے تھے ملاحظہ فرمائیں

حسنین کریمین سے محبت کا اظہار

حضرت براء رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں :میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ حسن ابن علی آپ ﷺ کے کندھے پر تھے آپ ﷺ فرماتے تھے : الٰہی ! میں اس سے محبت کرتا ہوں تو تو اس سے محبت کر ۔ (صحیح البخاری ، برقم :۳۷۴۹ ، ۵/۲۶)

وضاحت : اس حدیث پاک میں حضور ﷺ نے اپنے نواسے سیدنا امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ کے لیے دعا فرمائی

ہے ، اس حدیث پاک میں ہمارے لیے یہ تعلیم ہے کہ ہم بھی اپنے رشتے داروں کے لیے اللہ تعالی کی بارگاہ میں حسبِ توفیق دعاکیا کریں ۔

حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا : اہل بیت میں آپ کو زیادہ پیارا کون ہے ؟ فرمایا : حسن اورحسین اورر حضور ﷺ حضرت سیدتنا فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا سے فرماتے تھے :میرے پاس میرے بچوں کو بلاؤ پھر انہیں سونگھتے تھے اور اپنے سے لپٹاتے تھے۔ (سنن الترمذی ، برقم :۳۷۷۲ ،۵/۶۵۷)

حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا سے محبت کااظہار 

احادیث مبارکہ میں آتا ہے جب خاتونِ جنت نبی پاک ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوتیں تو حضور ﷺ کھڑے ہوکر ان کا استقبال فرماتے ان کے ہاتھ اور پیشانی کا بوسہ لیتے اور اپنی جگہ پر انہیں بٹھاتے حتی کہ حضور ﷺ نے ایک موقع پر فرمایا کہ فاطمہ میر ے جسم کا ٹکڑا ہے، جس نے انہیں ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا ۔ (صحیح البخاری ، برقم :۳۷۱۴ ، ۵/۲۱ )

وضاحت

محترم قارئین ! ملاحظہ فرمائیں کہ حضور ﷺ کس طرح سے اپنی شہزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا سے اپنی محبتِ پدری کا اظہار فرمایا کرتے تھے آج ضرورت اسی امر کی ہے کہ باہمی رشتوں کی بنیاد محبت ، ادب و احترام پر رکھی جائے اور اس حوالے سے حضور ﷺ کی سیرت طیبہ سے رہنمائی حاصل کی جائے

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے :رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی اور حضرت فاطمہ او ر امام حسن وامام حسین سے فرمایا : جو تم سے لڑے میں ان سے لڑنے والا ہوں اور جو تم  سے صلح کرے میں ان سے صلح کرنے والاہوں ۔ (سنن الترمذی ، برقم : ۳۸۷۰ ، ۵/۶۹۹)

وضاحت

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ مذکورہ حدیث پاک میں حضرت علی اور حضرت فاطمہ او ر امام حسن وامام حسین کی عظیم شان کا اظہار ہے لیکن اس فرمان میں ہمارے لیے یہ تعلیم ہے کہ ہم نیکی اور بھلائی کے کاموں میں اپنے گھر والوں کو اپنے ساتھ اور مدد کی یقین دہانی کرائیں۔

اور اگر گھر کا کوئی بھی فرد کسی برائی کو ختم کرنے کے لیے آگے بڑھتا ہے تو ہم اس کی مکمل حمایت کا اسے یقین دلائیں ۔

المختصر ہمارے دل میں جو اپنے گھر والوں کے لیے محبت کا جذبہ ہے شریعت کی حدود میں رہتے ہوئے ہم اس جذبہ کا وقتاً فوقتاً اظہار کرتے رہیں ۔اللہ پاک عمل کی توفیق دے۔

تحریر: ابوحمزہ حمد عمران مدنی

ان  مضامین کو بھی پڑھیں

آزادی مارچ اور صحابیات رضی اللہ تعالی عنہن کا پردہ و شرم و حیا

رسول اللہ ﷺ کے چار یاروں نے بوقت وصال کیا کہا

نبی کریم ﷺ کا شعبان میں معمول    از    جاوید اختر بھارتی 

قبرستانوں کابرا حال ذمہ دار کون    از   الحاج حافظ محمد ہاشم قادری صدیقی مصباحی

آن لائن خرید داری کے لیے کلک کریں 

Amazon  

  Flipkart

ہندی میں مضامین پڑھنے کے لیے تشریف لائیں

Leave a Comment

Your email address will not be published.

*